فیضان نبوت — Page 33
۳۲ پہلے ہوا ہے اور نہ آئندہ ہو گا۔اس پہ مولوی صاحب فرمانے لگے پھر تو آپ لوگ ختم نبوت کے منکر ہوتے کیونکہ آپ نبوت کو بند نہیں سمجھتے۔میں نے جوابا عرض کیا کہ نبوت تو نہ کبھی بند ہوتی ہے اور نہ کبھی بند ہوگی اور نہ کبھی دنیا نبوت سے خالی رہ سکتی ہے۔ابتداء میں آدم علیہ السلام کی نبوت کا ظہور ہوا اس کو ختم ہونا ہی تھا کہ نوح علیہ السلام کی نبوت شروع ہوگئی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی اور پھر موسیٰ علیہ السلام کی اور پھر عیسی علیہ السلام کی اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی۔اور آپؐ کی نبوت کے متعلق امت مسلمہ کا اعتقاد ہے کہ وہ قیامت تک کے لئے ہے پس اگر قیامت تک کے لوگوں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی ہیں اور آپ کی تشریعی نبوت ان سب کے لئے کفایت کرنے والی ہے تو وہ قیادت سے پہلے ختم نہیں ہو سکتی۔اب آپ ہی بتائیں کہ نبوت ختم ہوئی تو کیونکر؟ یہ سنتے ہی مولوی صاحبان کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے اگر یال کی کھال اتارنا آتی ہے تو احمدیوں کو۔اور وہاں سے تشریف لے گئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں ختم نبوت کو ہی وجہ نزارع بنارکھا ہے لیکن اس مسئلہ میں بھی کئی پہلوؤں پر ہمارا اور ان کا اتفاق ہے۔مثلاً وہ یہ مانتے ہیں۔کہ