فیضان نبوت — Page 122
۱۲۲ تو ساری قوم کو ہی متصور ہوتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔و إذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَقَومِ ذَكَرُوا نَعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاء وجَعَلَكُمْ مُلو گا۔(مائدہ آیت (۲) یعنی تم اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اسے میری قوم تم اللہ کے اس انعام کا شکر کرو جو اس نے اس صورت میں تم پر کیا کہ اس نے تم میں نبی مبعوث کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا۔اب دیکھئے اس آیت میں موسیٰ علیہ السلام نبوت اور بادشاہت کو قومی انعام قرار دے رہے ہیں اور اپنی قوم کو شکر نعمت کی تلقین فرما رہے ہیں۔پس آیت کریمہ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَا وليكَ مَعَ الَّذِينَ انْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ - میں جس انعام کا وعدہ دیا گیا ہے اس کا مقتضاء یہ نہیں کہ امت کا ہر فرد نبی بن جائے۔بلکہ اس کا منشاء یہ ہے کہ بوقت ضرورت امت کا کوئی نہ کوئی فرد نبوت کے انعام سے ضرور نوازا جائیگا چنانچہ سورہ فاتحہ میں بھی صیغہ واحد کی بجائے جمع کا صیغہ اسی لئے استعمال کیا گیا ہے کہ یہ مشتر کہ دعا ساری قوم کے لئے فائدش