فیضان نبوت — Page 111
یعنی ہم نے نبوت کو ابر اہیم کی ذریت سے مخصوص کر دیا۔اور چونکہ ابراہیم علیہ اسلام کی ذریت کا سلسلہ قیامت تک محمد ہے اس لئے نبوت کا سلسلہ بھی قیامت تک جاری ماننا پڑے گا اور اگر کہا جائے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوگئی ہے تو دوسرے لفظوں میں اس کا یہ مطلب ہوگا کہ آپؐ پر ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کا خاتمہ ہو گیا اور یہ بالبداہت غلط ہے کیونکہ انکی ذریت کا سلسلہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک محدود نہیں بلکہ قیامت تک وسیع ہے جس سے ظاہر ہے کہ نبوت کا سلسلہ بھی قیامت تک جاری رہے گا۔- ایسی طرح ابراہیم علیہ سلام کے متعلق سورہ بقرہ میں آتا ہے۔انّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَا مَا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لا يَنَالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ (بقره است (۱۲۵) یعنی اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو مختلف ابتلاؤں میں سے گزارنے کے بعد فرمایا کہ میں تجھے لوگوں کا امام مقرر کرنے والا ہوں۔انہوں نے عرض کی کہ میری ذریت میں سے بھی امام بنا ئیو تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں بناؤں گا نگر یہ منصب ظالموں کو نہیں ملیگا۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ منصب امامت سے محرومی کا باعث عالم ہوتا ہے تو کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک