فیضان نبوت — Page 99
११ دوسرا گر وہ کھڑا کیا جائے گا اور اس سے بھی وہی کام لیا جائے گا ہو صحابہ کرام سے لیا گیا تھا۔اور آیت کریمہ وَ اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ رجمعہ آیت ) سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آنے والا سیح اور مہدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی بروز ہو گا اور آپ کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ہی آئے گا۔پس خدا اور اس کے رسول کے نزدیک اگر الْيَوْمَ اكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ کا مطلب وہی ہوتا جو ہمارے مخالف بیان کرتے ہیں تو قرآن اور حدیث میں اس قسم کی تصریحات نہ پائی جاتیں اور دنیا میں ایسے حالا پیدا نہ ہوتے جو کسی مامور کی بعثت کے مقتضی ہوں۔اور اللہ تعالے کی طرف سے امت محمدیہ کو یہ جانفزا مژدہ بھی نہ سُنایا جاتا :- وَ مَنْ يُطِعِ الله وَالرَّسُولِ فَا وَالئِكَ مَعَ الَّذِينَ انْعَمَ اللهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبيِّنَ وَالصَّدِّيقِينَ وَ الشُّهَدَاء وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولئِكَ رفيقا۔ذلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ عَلِيمًا۔نم رنساء آیت ۷۰-۷۱) یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے اس رسول کی اطاعت کر نیگے وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء- صدیقین۔شہداء اور صالحین میں اور یہ