فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں

by Other Authors

Page 4 of 28

فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 4

کے معجزات ہیں" (تتمہ حقیقته الوحی صفحه ۳۵) اس باب میں آخری کلام یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی مذکورہ بالا عبارت جو ان تمام امور میں فیصلہ کن ہے یہ باوا صاحب سادہ لوح عوام سے چھپاتے پھرتے ہیں جس کے بعد اس نوع کا ہر اعتراض جیسا انہوں نے کیا ہے مردود ہو جاتا ہے۔____ بادا صاحب نے حضرت مرزا صاحب کے اس الہام کو ہدف اعتراض بنایا ہے۔دنیا میں کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا "۔( حقیقته الوحی صفحه ۸۹) اس نے بادا صاحب غالبا یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تخت سے بھی آپ کا تخت اونچا ہے۔قارئین کرام ملاحظہ فرمائیں کہ اس عبارت میں حضرت مرزا صاحب نے کہیں بھی اپنے آقا و موئی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر نہیں کیا۔جو بات ہارا صاحب کہہ رہے ہیں یہ تو ایسے ہی ہے جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ یہود کو فرماتا ہے۔انی فضلتكم على العالمین کہ میں نے تمام جہانوں پر تمہیں فضیلت دی۔اگر کوئی یہ دعوئی کر دے کہ جب یہود تمام جہانوں سے افضل ہوئے تو اسلام کے جہان سے بھی افضل قرار پائے۔ایسی ٹیڑھی سوچ والے کو انسان یہی کہہ سکتا ہے کہ عقل سے کام لو۔بعض بیانات خاص زمانہ یا محدود وقت سے تعلق رکھتے ہیں۔اسی طرح فصیح و بلیغ کلام میں بعض باتیں حذف ہوتی ہیں اور صاحب عرفان ایسی تحریروں سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ ان سے کیا مراد ہے۔اس لئے ایسی عبارتوں کو منے دینا جو ہرگز جائز نہ ہوں ، دیانتداری کے منافی ہے۔پس جہاں جہاں بنی اسرائیل کی فضیلت کا ذکر ہے وہاں سب مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی یہی تشریح کرتے ہیں کہ اس کا اطلاق ایک محدود زمانہ پر ہوتا ہے ، ہمیشہ کیلئے اور ہر زمانہ کے لئے اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔حضرت مرزا صاحب کا مذکورہ بالا الہام بھی ایک محدود زمانہ سے تعلق رکھنے والا ہے اور ہرگز حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانی تخت اس میں شامل نہیں۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب