فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں

by Other Authors

Page 3 of 28

فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 3

3 کرہن لگا۔یہ الگ بحث ہے لیکن اس وقت بحث یہ ہے کہ چاند اور سورج دو کا گرہن ہونا حضرت مرزا صاحب کی ایجاد نہیں کہ ان پر الزام دیا جائے کہ اپنی فضیلت کی خاطر ایک کی بجائے دو گرہن بنا لئے ہیں۔اسے اگر حدیث نبوی نہ بھی مائیں تو یہ امام باقر جو تقریباً ۱۶ سال قبل گزرے ہیں، کی پیشگوئی ثابت ہے جو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے اور امام زین العابدین رحمتہ اللہ علیہ کے بیٹے تھے۔کروڑ ہا شیعہ انہیں، امام مانتے ہیں۔ان کی طرز روایت یہ نہ تھی کہ سلسلہ وار واقعات سناتے کہ انہوں نے فلاں تے سنا اور فلاں نے فلاں سے سنا بلکہ اہل بیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ان کی پرورش ہوئی۔اور جو باتیں وہ وہاں سنتے تھے وہی بیان فرما دیتے تھے۔اس لئے ان کی بیان فرمودہ روایت کو دوسرے پیمانے سے نہیں پر کھا جائے گا۔بلکہ ان بزرگ آئمہ کے مقام اور ان کی نیکی اور تقوی کے اعلیٰ مقام اور مرتبہ کو محفوظ رکھتے ہوئے جو یہ آنحضرت کی طرف منسوب کریں اسے بدرجہ اولی ملحوظ رکھنا ہو گا۔اب باوا صاحب مائیں نہ مانیں کروڑہا شیعہ امام باقر کی اس روایت کو ہی ماننے پر مجبور ہیں اور سنی علماء میں سے بھی ایک تعداد اس روایت کا احترام کرتی آئی ہے۔اور بادا صاحب جیسے حج بحث بھی اس حقیقت سے بہر حال انکار نہیں کر سکتے کہ یہ حضرت مرزا صاحب کی بتائی پیشگوئی نہیں۔اگر بنائی ہے تو پھر ضرور امام باقرآ نے بنائی ہے۔پس کیا امام باقر نے ایسا امام مہدی علیہ السلام کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت ثابت کرنے کے لئے کیا تھا ؟ ضمنا" یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ یہ روایت حدیث کی کتاب دار قطنی میں موجود ہے جسے سنتی علماء ایک پائے کی کتاب تسلیم کرتے ہیں۔علاوہ ازیں یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہے کہ بادا صاحب نے اپنی بددیانتی کا یہاں بھی کرشمہ دکھایا ہے جس نظم کا یہ شعر ہے اس میں دو شعروں کے بعد حضرت مرزا صاحب نے فرمایا ہے۔واني لظل ان يخالف اصله فمافي في وجهي يلوح و يزهر یعنی سایہ کیونکر اپنے اصل سے مخالف ہو سکتا ہے پس وہ روشنی جو اس میں ہے وہ مجھ میں چمک رہی ہے۔نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔" جو کچھ میری تائید میں ظاہر ہوتا ہے دراصل وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم