فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 2
2 بادا صاحب نے حضرت مرزا صاحب کے ایک عربی شعر کا ترجمہ درج کیا ہے کہ اس (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے چاند کے خوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔اب کیا تو انکار کرے گا۔" ( اعجاز احمدی صفحہ ائے ) جناب ہاوا صاحب اتنے کور باطن انسان ہیں کہ انہیں پر نہیں چلتا کہ اعتراض کسی پر کر رہے ہیں۔حقیقت میں یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر اعتراض کر رہے ہیں تمام علماء جانتے ہیں کہ چاند سورج گرہن کی پیشگوئی حضرت مرزا صاحب نے نہیں کی بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی تھی اور یہ بھی جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں چاند کا گرین ہوا تھا۔اب کی بات حضرت مرزا صاحب نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے اظہار کے لئے بیان کی ہے۔اور چاند اور سورج سے گرہن کو آج تک کسی احمدی عالم نے حضرت مرزا صاحب کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت کے طور پر پیش نہیں کیا لیکن یہ باوا صاحب اتنے جاہل ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی جو ایک روشن حقیقت کی طرح چلی آرہی ہے گزشتہ چودہ سو سال میں دین کے مفکرتین نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو ایک چاند ہی کو گرہن لگا تھا اور مہدی کے لئے دو کو گرہن لگے گا اور کسی نے اس وجہ سے مہدی کی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت کا نہیں سوچا۔لیکن بادا صاحب کے ذہن میں ختنہ کو ندا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی تائید میں یہ نشان پیش کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی فضیلت کا اعلان کیا ہے۔یہ باوا صاحب کی نیت کی کبھی نہیں تو اور کیا ہے۔حملہ تو بظاہر حضرت مرزا صاحب پر کرتے ہیں لیکن عملاً ان باتوں پر کرتے ہیں جو حضرت مرزا صاحب کی تخلیق نہیں بلکہ وہ مسائل دینیہ ہیں جن کی سند محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔اگرچہ کثرت کے ساتھ علماء نے چاند سورج گرہن کی پیشگوئی والی حدیث کو قبول کیا ہے اور ہندو پاکستان میں حضرت مرزا صاحب سے پہلے اس کا خوب چرچا تھا کہ چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔لیکن اب مرزا صاحب کے بعد یہ اسے امام باقر کا قول قرار دینے لگے ہیں تاکہ مرزا صاحب سے کسی نہ کسی طریق سے چھٹکارا مل جائے جن کے زمانہ میں ۱۸۹۴ء میں معیشہ تاریخوں میں چاند اور سورج کو