فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں

by Other Authors

Page 19 of 28

فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 19

19 بادا صاحب نے اپنے فاسدانہ خیالات کو سچا ثابت کرنے کے لئے حضرت مرزا صاحب کے اس مکمل کشف کو یہاں درج نہیں کیا جو اس تحریر کے ساتھ اسی صفحہ پر نیچے حاشیہ میں آپ نے درج فرمایا ہے۔۔۔ان مولویوں کو ذرا حیا نہیں کہ ایک شخص حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر والدہ کی طرح کر رہا ہے اور خود کو ان کی نسل میں سے ثابت کر رہا ہے مگر یہ ، دلوی پھر بھی اپنے نفس کا گند ظاہر کرنے سے نہیں رکھتے۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جیسی مقدس اور قابل صد احترام بزرگ ہستی کے متعلق ایسا رویہ اختیار کرنا بید خنک آمیز اور ناقابل برداشت ہے۔ہم حضرت مرزا صاحب کی تحریر کردہ پوری عبارت پیش کرتے ہیں۔اس سے قارئین کو اندازہ ہو جائے گا کہ مولوی اصل حق چھپا کر محض اپنے فاسدانہ خیالات کو سچ کر دکھانے کے لئے محمد ا مختصر تحریر پیش کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے قماش کے لوگوں کے خیالات غلط طرف موڑ سکیں۔قارئین کرام ! دیکھیں حضرت مرزا صاحب مذکورہ بالا تحریر کے نیچے حاشیہ میں اپنے اس کشف کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔براہین احمدیہ میں یہ کشف بایں الفاظ درج ہے ” اور ایسا ہی الہام متذکرہ بالا میں جو آلِ رسول پر درود بھیجنے کا حکم ہے سو اس میں ستریہی ہے کہ افاضہ انوار الہی میں محبت اہل بیت کو بھی بہت عظیم دخل ہے اور جو شخص حضرت احدیت کے مقربین میں داخل ہوتا ہے وہ انہیں یقین طاہرین کی وراثت پاتا ہے اور تمام علوم و معارف میں انکا وارث ٹھہرتا ہے۔اس جگہ ایک نہایت روشن کشف یاد آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نماز مغرب کے بعد عین بیداری میں ایک تھوڑی سی غیبت حق سے جو خفیف سے نشا سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے ایک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی جیسی بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے یعنی جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و سلم و حضرت علی و حسنین و فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہم اجمعین۔اور ایک نے ان میں سے اور انیسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مهربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو