فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 11
11 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ سکے۔" (خطبہ جمعہ فرموده حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ۸ فروری ۱۹۲۲) نہیں جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے لیکن دیکھئے بادا صاحب کیسے کیسے افتراء اس پر باندھتے ہیں۔جو حوالہ باوا صاحب نے الفضل مما جولائی ۱۹۲۲ء کا دیا ہے وہاں بھی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے یہی مضمون بیان فرمایا ہے کہ کوئی شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔چنانچہ فرمایا: " ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالٰی نے کسی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھنے سے نہیں روکا۔اگر کسی شخص میں ہمت ہے تو بدھ جائے مگر وہ بڑھے گا نہیں کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قربانی دی ہے کوئی وہ قربانی دینے کا اہل نہیں۔یہ صاف بات ہے کہ بیھ سکتا اور چیز ہے اور پڑھنا اور چیز۔بڑھ سکنے کے یہ معنے ہیں کہ ہر شخص کے لئے آگے بڑھنے کا موقعہ ہے اور یہ راستہ اس کیلئے بند نہیں بلکہ کھلا تھا لیکن جب کوئی شخص آپ سے بڑھا نہیں تو معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو عشق کا نمونہ دکھایا۔دیسا نمونہ اور کوئی نہیں دکھا سکا۔عام آدمی تو الگ رہے وہ نمونہ ابراہیم موسیٰ اور عیسیٰ بھی نہیں دکھا سکے " اہی مضمون آپ نے اور رنگ میں مزید وضاحت کے ساتھ یوں بیان فرمایا : و اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کوئی شخص بڑا درجہ حاصل کر سکتا ہے ؟ تو میں کہا کرتا ہوں کہ خدا نے اس مقام کا دروازہ بھی بند نہیں کیا مگر تم میرے سامنے وہ آدمی تو لاؤ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مقامات قرب کے حصول میں زیادہ سرعت اور تیزی کے ساتھ اپنا قدم اٹھانے والا ہو۔ہو سکتا اور چیز ہے اور ہوتا اور چیز ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ عیسائیوں سے کہہ دو کہ اگر خدا کا بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوتا۔اب اس کا یہ تو مطلب نہیں کہ واقعہ میں خدا کا کوئی بیٹا ہے۔اسی طرح ہم یہ نہیں کہتے کہ دنیا میں کوئی شخص ایسا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ