فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 12
12 علیہ و سلم سے اپنے درجہ میں آگے نکل گیا۔ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی شخص پڑھنا چاہے تو بیٹھ سکتا ہے خدا نے اس دروازے کو بند نہیں کیا مگر عملی حالت یہی ہے کہ کسی ماں نے ایسا کوئی بچہ نہیں جتا اور نہ قیامت تک کوئی ایسا بچہ جن سکتی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ سکے۔خطبہ جمعہ فرموده ۱۱ فروری ۱۹۲۲ء ) پس آگے بڑھنے کا امکان عقلی تسلیم کرتے ہوئے بہت واضح طور پر کہا گیا ہے کہ واقعاتی طور پر واضح گیاہے نہ ایسا ہوا نہ قیامت تک ہو گا۔قرب خداوندی کے میدان میں تمام بندے (ماضی، حال اور مستقبل کے سب کھلاڑیوں کی صورت دوڑ میں حصہ لے رہے ہیں اس میں کسی بندے یا کھلاڑی کو نہ روکا گیا ہے نہ اس کے پاؤں باندھے گئے ہیں کہ ضرور دوڑ میں پیچھے رہ جائے اگر ایسا ہو تو نا انصافی بلکہ ظلم کہلائے گا لہذا آگے بڑھ سکنے کے امکان عقلی سے انکار کسی بھی طرح مناسب نہیں البتہ واقعاتی حقیقت یہی ہے کہ : کسی ماں نے ایسا کوئی بچہ نہیں جنا اور نہ قیامت تک کوئی ایسا بچہ جن سکتی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھ سکے" (" مصلح موعود ") بادا صاحب نے قاضی ظہور الدین اکمل صاحب کے یہ دو شعر محمدم پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں محمدا دیکھنے ہوں جس نے اکمل تعلام احمد کو دیکھے قادیاں میں درج کئے ہیں تاکہ یہ ثابت کریں کہ گویا جماعت احمدیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتی ہے۔۔۔۔حالانکہ یہ وہ اشعار ہیں جو جماعت احمدیہ کے عقائد سے ہرگز تعلق نہیں رکھتے نہ ہی یہ شاعر جماعت کی طرف سے مجاز سمجھے جا سکتے ہیں کہ وہ جماعتی مسلک کو بیان کریں لیکن صرف یہی بات نہیں اگر اس طرح ہر کس و ناکس کے خیالات پر فرقوں اور قوموں کو پکڑا جائے تو پھر تو دنیا میں کسی قوم اور فرقے کا امن قائم نہیں رہ سکتا۔اب غور سے سن لیں۔جناب ہاوا صاحب! اگر اکمل صاحب یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ شخص جو قادیان میں بروز محمد " کے طور پر ظاہر ہوا وہ اس محمد صلی