فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 15
15 یہ ایک طویل مکتوب ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی طلال کو محض شک کی بناء پر حرام قرار نہیں دینا چاہے۔اسی تسلسل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا طریق بھی بیان فرمایا ہے: پتہ نہیں ہارا صاحب کو اعتراض کس بات پر ہے یا محض دھوکہ دینے کے لئے ایسی باتوں کو اعتراض کے طور پر پیش کر کے عوام الناس کو اشتعال دلانا چاہتے ہیں۔اگر یہ اسلامی لٹریچر سے ذرا بھی واقف ہوتے تو انہیں علم ہو تا کہ : حضرت شیخ زین الدین بن عبد العزیز اپنی کتاب "فتح المعین شرح قراة العین " میں زیر عنوان " باب الصلواة " زير قاعده مهم مطبوعہ مصر مولفہ ۹۸۲ھ میں لکھتے ہیں : " وجوخ اشتهر عمله بلحم الخنزیر و جین شابي اشتهر عمله با نفحه الخنزير وقد جاءه صلی اللہ علیہ وسلم جبنه من عندهم و لم يسئل عن ذالک ذکره شیخنافی المنهاج" " اور جوخ جو مشہور ہے بنانا اس کا ساتھ چربی سٹور کے اور پنیر شام کا جو مشہور ہے بناتا اس کا ساتھ پیر مائع سٹور کے اور آیا جناب سرور علیہ الصلواۃ والسلام کے پاس پیران کے پاس ہے پس کھایا آنحضرت نے اس سے اور نہ پوچھا اس سے (یعنی اس کی بابت ) " یہ ترجمہ رسالہ " اظہار الحق دوباره جواز طعام اهل کتاب " سے ماخوذ ہے جو ۱۸۷۵ء میں مذکورہ بالا احادیث کی بنا پر ہوشیار پور کے قائم مقام اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر جناب خان احمد شاہ صاحب نے شائع کیا۔اس رسالہ یا فتولی پر مولوی نذیر حسین صاحب دھلوی اور کئی دیگر علماء غیر مقلد کی مہریں بھی ثبت ہیں۔پس یا تو بادا صاحب اسلامی لٹریچر سے بالکل کورے اور نابلد ہیں یا پھر سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے جھوٹ سے کام لے رہے ہیں۔اگر ان میں دیانتداری کا ذرا بھی مادہ ہوتا تو حضرت مرزا صاحب پر حملہ کرنے سے قبل اپنے شیخ الکل مولانا نذیر حسین دھلوی اور ان کے ہمنوا علماء پر حملہ کرتے اور ان کا قلع قمع کرنے کے بعد حضرت مرزا صاحب کی طرف رخ کرنے کی بجائے ، اگر ان میں جرات ہوتی تو حضرت شیخ زین العابدین بن عبد العزیز کی طرف رخ کرتے۔۸ بارا صاحب نے جماعت احمدیہ کے لٹریچر سے حسب ذیل تین اقتباس درج کئے ہیں۔