فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں

by Other Authors

Page 13 of 28

فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 13

" 13۔اللہ علیہ وسلم سے اپنی شان میں بدھ کر تھا جو مکہ میں پیدا ہوا تو ہرگز یہ عقیدہ نہ جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے نہ کوئی شریف النفس جو حضرت مرزا صاحب کی تحریرات سے واقف ہو اسے احمدیت کی طرف منسوب کر سکتا ہے۔حضرت مرزا صاحب تو زندگی بھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور اس طرح بجز سے بچے رہے جس طرح قوموں کے لئے راہ بچھی ہو حتی کہ آپ نے اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے کوچے کی خاک کے برابر قرار دیا ہے دیکھئے کس طرح والہانہ مشق کے ساتھ یوں گویا ہیں۔جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کوچه آل محمد است اب بیٹے اکمل صاحب کے ان اشعار کی بات کہ واقعہ کیا ہوا تھا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا۔در حقیقت شاعر اپنی شعری دنیا میں بسا اوقات ایسی باتیں بیان کر جاتا ہے جو دراصل اس کے مانی الضمیر کو پوری طرح بیان نہیں کر پاتیں اور بارہا ایسا ہوا ہے کہ بعض اوقات شاعر کو خود اپنے شعروں کی وضاحت کرنی پڑتی ہے اور ان اشعار سے بھی جو غلط تاثر پیدا ہوتا ہے وہ غلط تاثر یقینا ہر احمدی کیلئے جس نے یہ پڑھا سخت تکلیف کا موجب بنا جب شاعر سے اس بارہ میں جواب طلبیاں ہوئیں اور مختلف احمدی قارئین نے ان اشعار کی طرز پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو ان صاحب نے ان اشعار کا جو مضمون خود پیش کیا وہ حسب ذیل تھا : مندرجہ بالا شعر دربار مصطفوی میں عقیدت کا شعر ہے۔اور خدا جو علیم بذات الصدور ہے شاہد ہے کہ میرے واہمہ نے بھی کبھی اس جاہ و جلال کے نبی حضرت ختمیت آب کے مقابل پر کسی شخصیت کو تجویز نہیں کیا۔اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ یہ بات میرے خیال تک میں نہ آئی کہ میں یہ شعر ( آگے سے ہیں بڑھکر اپنی شاں میں ) کہہ کر حضرت افضل الاسل" کے مقابل میں کسی کو لا رہا ہوں۔بلکہ میں نے تو یہ کہا۔کہ محمدؐ کا نزول ہو ا یعنی بعثت ثانیہ اور یہ تمام احمدیوں کا عقیدہ ہے کہ نہ تو تاریخ صحیح ہے نہ دوسرے جسم میں روح کا حلول بلکہ نزول سے مراد اس کی روحانیت کا ظہور ہے اور جو کہ خدا تعالی فرماتا ہے کہ للآخرة خير لك من الاولی۔ہر آنے والے دن میں تیری شان پہلے سے زیادہ نمایاں اور افزوں ہو گی۔بوجہ درود شریف اور اعمال حسنہ امت محمدیہ جن کا ثواب جیسا کہ عمل کرنے والے کے نام لکھا جاتا ہے۔ویسا ہی محرک و معلم کے نام بھی اس