فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں

by Other Authors

Page 8 of 28

فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 8

بخاری کتاب التفسیر تفسیر سوره جمعه ) که جب ایمان ثریا ستارے پر چلا جائے گا ان (یعنی اہل فارس ) میں سے ایک شخص ہو گا جو اسے واپس لائے گا۔قار تین ! ملاحظہ فرمائیں ! کہ سوال یہ کیا گیا تھا کہ وہ " آخرین "کون ہیں لیکن جو جواب دیا گیا وہ یہ تھا کہ جب ایمان اس دنیا سے اٹھ جائے گا تو اسے واپس لانے والا اہل فارس میں سے ہو گا۔دیکھئے کسی جامعیت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمایا کہ جب اہل فارس میں سے وہ شخص ایمان کو واپس لائے گا تو اس پر ایمان لانے والے اور اس کی اتباع کرنے والے اور اس کی اطاعت کا جوا اپنی گردنوں میں پہننے والے ہی "آخرین" ہونگے۔جو " مہم " کے مصداق ہونگے یعنی وہ بھی صحابہ میں ہی شمار ہوگئے۔پس یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے۔ایسے نبی کی نسبت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی دوسری بعثت کا مصداق ہو۔ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ایسے لوگوں کا نام اصحاب رسول اللہ رکھا جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والے تھے ، جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔بادا صاحب ! عقل کے ناخن لیں۔خدا تعالٰی کے وعدوں پر اعتراض کرنا نادانی ہی نہیں خدا تعالٰی کی سخت نا فرمانی بھی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بعثت جو آخری زمانہ میں بروزی طور پر ہوئی مقدر تھی ، کا ہی وعدہ تھا جسے ایمان کو واپس لانے والے مہدی معہود میں پورا ہونا تھا۔یہی وہ وجود تھا کہ جس کو بڑی کثرت سے بزرگان سلف نے ہمارے آقا و مولی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کا عکس کامل ، آپ کا بروز " آپ کے انوار کا عکاس ، حتی کہ اسکا باطن آپ ہی کا باطن قرار دیا۔جیسا کہ ذیل کی چند مثالوں سے واضح ہے۔حضرت امام عبد الرزاق کاشانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔" المهدي الذي يجيثي في اخر الزمان فقد يكون في الاحكام الشرعيه تابعا لمحمد صلی اللہ علیہ وسلم وفی المعارف والعلوم والحقيقة تكون جميع الأنبياء والأولياء تابعين له كلهم۔۔۔۔لأن باطنه، باطن محمد صلی اللہ علیہ و سلم