فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں

by Other Authors

Page 9 of 28

فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 9

9 ( شرح فصوص الحکم مطبوعہ مصر صفر (۵۳) یعنی آخری زمانے میں آنے والا مہدی احکام شرعیہ میں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع ہو گا لیکن علوم و معارف اور حقیقت میں آپ کے سوا تمام انبیاء اور اولیاء مہدی کے تابع ہونگے کیونکہ مہدی کا باطن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا باطن ہے۔یہ قول سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا ہے۔اس میں بھی انہوں نے امام مہدی کے باطن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا باطن قرار دے کر انہیں آپ کا عکس اور حل و یروزی قرار دیا ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اپنی کتاب الخیرا کثیر میں فرماتے ہیں۔حق له ان ينعكس فيد انوار سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ويزعم العامه انداذا نزل الى الأرض كان واحدا من الامه كلابل هو شرح لاسم الجامع المحمدى و نسخه منتسخه منه فشتان بیند و بین احد من الامه ( الخيرا كثير صفحه ۷۲ مطبوع بجنور ) یعنی امت محمدیہ میں آنے والے مسیح کا حق یہ ہے کہ اس میں سید المرسلین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کا انعکاس ہو۔عوام کا خیال ہے کہ صحیح جب زمین کی طرف نازل ہو گا تو وہ صرف ایک امتی ہو گا۔ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہ تو اسم جامع محمدمی کی پوری تشریح ہو گا۔اور اس کا دوسرا نسخہ ہو گا پس اس میں اور ایک عام امتی کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔اس عبارت میں حضرت شاہ صاحب نے آنے والے مسیح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کا پورا عکس اور آپ کا کامل حل و بروز قرار دیا ہے۔شیخ محمد اکرام صابری لکھتے ہیں :- در مجمد بود که بصورت آدم در میداء ظهور نمود یعنی بطور بروز در ابتداء عالم ، روحانیت محمد مصطفی صلی الله علیه و سلم در آدم متجلی شده و هم او باشد که در آخر بصورت خاتم ظاہر گردد یعنی در خاتم الولایت که مهدی است نیز روحانیت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بروز ظهور خواهد کرد و تصرفها خواهد نمود۔اقتباس الانوار صفحه ۵۲ بحواله بیان المجاهد صفحه ۱۵۰ )