فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 10
10 یعنی وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے جنہوں نے آدم کی صورت میں دنیا کی ابتدا میں ظہور فرمایا یعنی ابتدائے عالم میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت بروز کے طور پر حضرت آدم میں ظاہر ہوئی۔اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہونگے جو آخری زمانہ میں خاتم الولایت امام مہدی کی شکل میں ظاہر ہونگے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی روحانیت مہدی میں بروز اور ظہور کریگی۔پس خدا تعالی کے اس وعدہ کا ذکر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی کتاب کا یہ الفصل میں بیان فرمایا ہے۔اگر یہ قابل اعتراض بات ہے تو یہ اعتراض حضرت مرزا بشیر احمد صاحب پر نہیں بلکہ خدا تعالی پر ہے جس نے اپنے پاک کلام میں یہ وعدہ دیا۔--۵- باوا صاحب نے اپنے اس دو ورقہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی طرف حسب ذیل عبارت منسوب کی ہے تاکہ وہ یہ ثابت کر سکیں کہ نعوذ باللہ جماعت احمدیہ اپنے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والی ہے۔چنانچہ بادا صاحب رقمطراز ہیں۔یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔حتی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے" الفضل ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء ) معزز قارئین! یہ عبارت نہ ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء کے الفضل میں کہیں موجود ہے نہ کسی اور شمارہ میں۔یہ ہارا صاحب کا دجل ہے اور ایسی کھلی کھلی نہیں ہے کہ جس پر ہمیشہ جھوٹے سہارا لیا کرتے ہیں۔اور یہ ہارا صاحب تو تلبیس اور خیانت کے ایسے استاد ہیں کہ خود ساختہ عبارت کو کسی اور کی طرف منسوب کرتے ہیں اور پھر بڑی ہٹ دھرمی سے چیلنج بھی دیتے چلے جاتے ہیں کہ کوئی ان کے پیش کردہ حوالہ جات کو غلط ثابت نہیں کر سکتا۔قارئین کرام! حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی ، جن کی طرف بادا صاحب نے مذکورہ بالا عبارت منسوب کی ہے کا تو اپنے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس کے سوا اور کوئی عقیدہ نہ تھا کہ : کسی ماں نے ایسا بچہ نہیں جتا اور نہ قیامت تک کوئی ایسا بچہ جن سکتی ہے جو محمد