عہد نبویﷺ کا قمری و شمسی کیلنڈر — Page 6
سلسلہ میں حضور ایدہ اللہ تعالٰی نے ۲۶ دسمبر ۱۹۸۹ء کو حسب ذیل مکتوب سپرد قلم فرمایا : پیارے مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد السلام علیکم ورحمت الله و بركاته حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دور کی کمکی و مدنی زندگی کے اہم تاریخی واقعات کا کیلنڈر تیار کریں۔جن کے متعلق ہمیں معین طور پر قمری مہینوں کا ذکر ملتا ہو کہ کس مہینے میں کون سا اہم واقعہ گزرا ہے۔اس واقعاتی کیلنڈر کو سخسی مہینوں کے ساتھ تطبیق دے کر ایک مقالہ تیار کروائیں جس سے ایک نظر میں ہی یہ معلوم ہو جائے کہ کون سا واقعہ کسی مسی مہینے میں گزرا ہے۔اس میں عام تاریخی واقعات کے علاوہ مسائل سے متعلق ایسے واقعات بھی شامل ہو جائیں جن کے متعلق قطعی طور پر معلوم ہو کہ کسی قمری تاریخ یا تاریخوں میں وہ رونما ہوئے؟ كان الله معكم" یہ نہایت کٹھن اور نہایت مشکل بلکہ بظاہر ناممکن سا کام تھا جو محض خدا تعالی کے فضل اور ہمارے پیارے امام تمام ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی روحانی توجہ اور دعا سے ۲۰ فروری ۱۹۹۰ کو پایہ تکمیل تک پہنچا۔اور حضور کی قبولیت دعا کا چمکتا ہوا نشان بن گیا۔اس سلسلہ میں آسمانی نصرت مشعل راہ بنی۔واقعہ یہ ہوا کہ خاکسار کو مصری ماہر فلکیات کی تقویم مالتو فیقات الالہامیہ " کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ جس طرح ۱ ہجری کا آغاز یکم محرم کو ہوتا ہے جب کہ سٹسی لحاظ سے آ جولائی کی تاریخ تھی اور جمعہ کا دن تھا۔اسی طرح ٹھیک ۵۳۷ قمری سالوں کے بعد ۵۳۸ ہجری کا کیلنڈر 1 ہجری کی طرح یکم محرم ۶ جولائی جمعہ ہی سے شروع ہوتا ہے۔اس طرح ہجری اسے ۵۳۷ سال قبل کا قمری و شمسی کیلنڈر جو ایک گمشدہ خزانہ تھا خود بخود دریافت ہو گیا۔فالحمد للہ علی ذالک مگر مجھے چونکہ صرف آنحضرت کی ولادت سے ہجرت تک کے واقعات کا کیلنڈر مطلوب تھا۔اس لئے میں اس کی تلاش میں ۵۳۸ھ کے کیلنڈر سے ۵۳ سال پیچھے چلا گیا حتی کہ ۲۸۵ھ کے کیلنڈر تک پہنچا اور یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کے ماور سال کا کیلنڈر تھا۔اس طرح ۵۳ سال کے خفیہ " کیلنڈر کا انکشاف ہوا۔فالحمد للہ علی احسانہ