عہد نبویﷺ کا قمری و شمسی کیلنڈر

by Other Authors

Page 5 of 87

عہد نبویﷺ کا قمری و شمسی کیلنڈر — Page 5

غیر شعوری طور پر اس طرف منتقل ہوئی کہ قمری جدولوں کو کسی جدولوں میں تبدیل کر کے اس دونوں کو متوازی ہم آہنگ اور باہم موافق بنایا جائے اور پھر یہ کوششیں زور شور سے شروع ہو گئیں۔اس تاریخی معرکہ کے سر کرنے کا اصل سرا مصر کے نامور محقق اور ماہر فلکیات صاحب اللواء محمد مختار باشا (ولادت 1846ء وفات 1897ء) کے سر ہے۔جنہوں نے سالہا سال کی محنت د عرق ریزی سے پہلی صدی ہجری سے پندرہویں صدی ہجری تک کے قمری کیلنڈر کو عیسوی اور قبطی سمسی کیلنڈر میں ڈھال دیا۔مصری حکومت نے آپکی یہ مکمل تحقیق ھ بمطابق ۱۸۹۴ء میں التوفیقات الالہامیہ " سر نام سے شائع کر دی۔یہ وہی مبارک سال تھا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی اور حضرت امام باقر علیہ السلام کی روایت کے عین مطابق ۲۱ مارچ کو چاند گرہن اور 4 اپریل کو سورج گرہن کا آفاقی نشان رونما ہوا۔یہ معرکہ آرا کتاب ساڑھے سات سو صفحات پر مشتمل تھی۔آپ کا یہ عظیم علمی کارنامہ جب تک چاند اور سورج چمکتے رہیں گے آب زر سے لکھا جائے گا۔اس حقیقت کے باوجود تقویم قمری و شی کے توافق کی اس جدوجہد میں زبر دست خلاء قائم رہا اور وہ یہ کہ تقابلی کیلنڈر صرف مدنی دور کے دس سالوں پر محیط ہے۔اور قبل از ہجرت تریپن (۵۳) برس کے بارہ میں بالکل خاموش ہے۔بلکہ جہاں تک میری معلومات ہیں آج تک پوری دنیائے اسلام میں کوئی ایسا قمری و شمسی کیلنڈر نہیں شائع ہوا جو آنحضور کی مقدس زندگی کے تریسٹھ سالوں پر حاوی ہو۔علامہ ابوالنصر ایم اے اور مولانا عبد القدوس ہاشمی کی تقویمیں اردو میں شائع شدہ ہیں۔علاوہ ازیں انگریزی میں کرنل سرولز لے بیگ SIR WOLSELEY HAIG) نے حسب ذیل کتاب لکھی ہے۔"COMPARATIVE TABLES OF MUHAMMADAN AND CHRISTIAN DATES" مگر ان سب تقویموں کا آغاز ہجرت نبوی کے سال اول ہی سے ہوتا ہے۔رب العرش نے احمدیت کی دوسری صدی کے پہلے سال کے اختتام پر ہمارے موجودہ امام ہمام ایدہ اللہ تعالیٰ کی توجہ اس تفتہ پہلو کی طرف مبذول فرمائی اور خاکسار کو اس کیلنڈر کی تشکیل کا ارشاد فرمایا۔اس