عہد نبویﷺ کا قمری و شمسی کیلنڈر — Page 4
منعقد فرمائی اور حضرت علی اور دیگر اکابر صحابہ کے مشورہ سے سن ہجری کی بنیاد رکھی۔(البدایہ والنہایہ " جلدے ص 20-21 مكتبه النصير الرياض مكتبه المعارف بیروت ايضا طبری مولفه ابو جعفر محمد بن جریر الطبری جلد نمبر ۳ ص۱۸۸ مطبوعہ مصر ۱۹۲۷ء) یہ واقعہ واقدی کی تحقیق کے مطابق ہجرت نبوی کے سولہویں سال ربیع الاول (بمطابق اپریل ۱۳۷ء) کے مہینہ میں وقوع پذیر ہوا۔اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک پر ابھی پورے پانچ سال بھی گزرنے نہ پائے تھے کہ خلافت راشدہ کی برکت سے تمام ممالک اسلامیہ میں تقویم ہجری جاری ہو گیا۔یہ تقویم قمری مہینوں پر مبنی تھا۔اور تنفیذ کے پہلے ہی سال سے بین الاقوامی حیثیت اختیار کر گیا۔کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مقبوضہ ممالک جن کا کل رقبہ ۲۲٬۵۴۰۴۰ مربع میل تھا اس میں حجاز نجد، شام، مصر، عراق، جزیره خوازستان عراق عجم آرمینیا، آذربائیجان، فارس، کرمان، خراسان اور حکمران جیسے ممالک شامل تھے۔اپنے دور کی اس عظیم ترین مملکت پر ہر جگہ اسلامی جھنڈا پوری آب و تاب سے لہرا رہا تھا۔"الفاروق حصہ دوم ص ۳۲ مولقہ مولانا شبلی نعمانی مطبوعہ اعظم گڈھ جولائی ۱۸۹۸ء) اس مشہور عالم تقویم ہجری کے قریباً ساڑھے نو سو سال بعد ۱۵ اکتوبر ۱۵۸۲ء کو موجودہ عیسوی کیلنڈر معرض وجود میں آیا جو شمسی حساب سے تیار کیا گیا تھا۔اس کو گریگورین کیلنڈر (GREGORIAN CALENDAR) کہا جاتا ہے۔یہ کیلنڈر سب سے پہلے اسی سال فرانس نے اور بعد کو دوسرے کیتھولک ممالک نے بھی اپنے اپنے علاقوں میں رائج کیا۔۱۷۵۲ء میں برطانیہ ۱۹۸ء میں روس ۹۳ء میں یونان اور ۱۹۲۷ء میں ترکی میں نافذ کیا گیا۔اور اب یہ دنیا کا مقبول ترین عالمی کیلنڈر تسلیم کیا جاتا ہے۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو زیر لفظ "CALENDAR" 1- 2- 3- COLLIERS ENCYCLOPEDIA, THE NEW CAXTON ENCYCLOPEDIA۔LEXICON UNIVERSAL ENCYCLOPEDIA۔قرآنی نظریہ کی رو سے تاریخ اور حساب کا معاملہ چاند اور سورج دونوں سے وابستہ ہے۔(یونس : ۶) امت مسلمہ اب تک تقویم کے باب میں صرف چاند سے استفادہ کرتی آرہی تھی لیکن گریگورین سٹی کیلنڈر کی عالمگیر مقبولیت اور عملی اثر و نفوذ کے بعد مسلم محققین کی علمی بصیرت