عہد نبویﷺ کا قمری و شمسی کیلنڈر — Page 3
بسم الله الرحمن الرحیم محمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم مقدمه کائنات عالم کا اہم ترین واقعہ ہمارے پیارے نبی خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ وآلہ وسلم کا ظہور ہے۔آنحضرت ہی بادشاہ ہر دو جہاں ہیں اور آپ ہی کے طفیل شمس و قمر کے انوار و تجلیات کی جلوہ گری ہے جیسا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں۔آن شد عالم که نامش مصطفی آن کہ ہر نورے طفیل نور اوست سید عشاق حق شمس الضفى ان که منظور خدا منظو ر اوست (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ۵۲۵ حاشیہ طبع اول ۱۸۸۴ء) اس زاویہ نگاہ سے دنیا بھر کے مفکروں اور دانشوروں کو بالا خریہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ تاریخ کا حقیقی اور انقلابی تصور آنحضرت کے وجود مقدس ہی سے ہوتا ہے۔اگر حضور کی بعثت نہ ہوتی تو علم تاریخ محض بے سروپا قصوں ، دیو مالائی کہانیوں اور افسانوں کا طلسم کدہ بن کر رہ جاتا۔آپ ہی نے علم تاریخ کی ضرورت و اہمیت بتائی اس کے رہنما اور سنہری اصول وضع فرمائے۔اس سے فائدہ اٹھانے اور عبرت حاصل کرنے کے بنیادی اسالیب بتائے اور سلیقے سکھلائے۔جہاں معدودے چند کے سوا باقی سب انبیاء کے حالات مرور زمانہ کے باعث ہمیشہ کے لئے دبیز پردوں میں دفن ہو چکے اور اکثر کے نام تک صفحہ ہستی سے یکسر محو ہو گئے وہاں آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (فداہ نفسی) کی تریسٹھ (۶۳) سالہ مقدس زندگی کے واقعات حیرت انگیز تفصیلات کے ساتھ محفوظ ہیں۔خدا تعالی نے ان واقعات کو سن وماہ کے عالی شان محل میں سجانے کے لئے ریکا یک غیب سے ایک عجیب سامان فرمایا۔ع مردے از غیب برون آید و کاری بکند چنانچہ ابوالغداء حضرت حافظ ابن کثیر الدمشقی "البدایہ والنھایہ " میں تحریر فرماتے ہیں کہ الہ میں حضرت عمر کے سامنے ایک چیک پیش ہوا جس پر صرف شعبان کا لفظ درج تھا۔آپ نے دریافت فرمایا کون سا شعبان؟ اس سال کا یا سال گزشتہ کا شعبان؟ اس پر آپ نے ایک مجلس شوری