درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 61

ہوا آخر وہی جو تیری تقدیر بھلا چلتی ہے تیرے آگے تدبیر ندا نے اُن کی عظمت سب اُڑا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي مری اس نے ہر اک عزت بنا دی مختلف کی ہر اک شیخی مٹا دی مجھے ہر قسم سے اُس نے عطا دی سعادت دی ، ارادت دی ، وفا دی ہر اک آزار سے مجھے کو شفا دی مرض گھٹتا گیا جوں جوں دوا دی محبت غیر کی دل۔دل سے ہٹا دی خُدا جانے کہ دل کو کیا سنا دی دوا دی اور خدا دی اور قبادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي مجھے کب خواب میں بھی تھی یہ اُمید کہ ہو گا میرے پر یہ فضل جاوید علی یوسف کی عزت ایک بے قید نہ ہو تیرے کرم سے کوئی کومید مراد آئی۔گئی سب نامرادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْآعَادِي ترے فضلوں سے میرا گھر ہے گلزار تری رحمت عجب ہے اے مرے یار فریقوں کو کرے اک دم میں تو پار جو ہو تو مید تجھ سے۔ہے وہ مُردار 61