درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 22

نہ وہ تیری صورت نہ وہ رنگ ہے کہو کس سبب تیرا دل تنگ ہے ؟ مجھے سچ بتا کھول کر اپنا حال کہ کیوں غم میں رہتا ہے اسے میرے لال ؟ وہ رو دیتا کہہ کر کہ " سب خیر ہے مگر دل میں اک خواہش سیر ہے" پھر آخر کو نکلا وہ دیوانہ وار نہ دیکھے بیاباں نہ دیکھا پہاڑ اتار اپنے مونڈھوں سے دُنیا کا بار طلب میں سفر کر لیا راختیار ہو گیا درد مند تم کی راہیں نہ آئیں پسند طلب میں چلا بے خودو بے حواس خدا کی عنایات کی کر کے آس جو پوچھا کسی نے " چلے ہو کدھر غرض کیا ہے جس سے کیا یہ سفر ؟ کہا رو گے۔" حق کا طلب گار ہوں نشار رو پاک کرتار ہوں“ خُدا کے لئے رو رو کے کرتا دُعا " کہ اسے میرے کرتار مشکل کشا ! سفر میں وہ میں عاجز ہوں، کچھ بھی نہیں خاک ہوں مگر بنده درگو پاک ہوں میں قرباں ہوں دل سے تری راہ کا نشاں دے مجھے مرد آگاہ کا نیشاں تیرا پاکر وہیں جاؤں گا جو تیرا ہو وہ اپنا ٹھہراؤں گا کرم کر کے وہ راہ اپنی بہتا کہ جس میں ہو اسے میرے تیری رضا کا 22 22