درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 23

بتایا گیا اس کو الہام میں کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام میں گر مرد عارف فلاں مرد ہے وہ اسلام کے راہ میں فرد ہے لا تب خُدا سے اُسے ایک پیر کہ چشتی طریقہ میں تھا دستگیر وہ بیعت سے اس کے ہوا فیضیاب سنا شیخ سے ذکر راہ صواب پھر آیا وطن کی طرف اُس کے بعد مے پیر کے فیض سے بخت سعد کوئی دن تو پردہ میں مستور تھا زباں چپ تھی اور سینہ میں نور تھا نہاں دل میں تھا درد و سوز و نیاز شہریوں سے چھپ چھپ کے پڑھتا نماز پھر آخر کو مارا صداقت نے بوش تعشق سے جاتے رہے اُس کے پیش ہوا پھر تو حق کے چھپانے سے تنگ محبت نے بڑھ بڑھ کے دکھلاتے رنگ کہا یہ تو مجھ سے ہوا اک گناہ کہ پوشیدہ رکھی سچائی کی راہ یہ صدق و وفا سے بہت دور تھا کہ غیروں کے خوفوں سے دل چور تھا تصور سے اس بات کے ہو کے زار کہا رو کے" اے میرے پروردگار ! ترے نام کا مجھ کو اقرار ہے ترا نام غفار دستار بلا ترتیب تو کئی قدوس ہے ہے ترے بن ہر اک راہ سالوس ہے 23