درثمین مع فرہنگ — Page 194
متفرق اشعار نہیں محصور ہرگز راستہ قدرت نمائی کا خُدا کی قدرتوں کا حصہ دعوی ہے خدائی کا قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اس بے نشاں کی چہرہ نمائی ہیں تو ہے جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ملتی نہیں وہ بات خدائی ہی تو ہے تے جس نے پیدا کیا وہی جانے دوسرا کیونکر اس کو پہچانے غیر کو غیر کی خبر کیا ہو نظر دُور کارگر کی ہوتے جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہو گیا آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا شکر اللہ مل گیا ہم کو وہ لعل بے بدل کیا ہوا گر قوم کا دل سنگ خارا ہو گیا ہم نے اُلفت میں تری بار اُٹھایا کیا کیا مجھ کو دکھلا کے فلک نے ہے دکھایا کیا گیا ه (منقول از برا بین احمدیہ حصه چهارم به مطبوعه ۱۹۹۲) روحانی خزائن جلد اول مندم کے اشتہا را علان مطبوعہ ریاض ہند امرتسر ۲۲ مارچ شد) ه امروزه چشم آرید ص۱۵۲ مطبوعه شده بر روحانی خزائن جلد۲ ص۳۳۲) که (ازالہ اوہام حصہ دوم ص ۲۶۵ مطبوعه اشاره روحانی خزائن جلد ۳ ص۴۵۵) 194