درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 4

بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اُس پہ آساں ہے ارے لوگو ! کرو کچھ پاس شان کبریائی کا زباں کو تھام لو اب بھی اگر کچھ ہوئے ایماں ہے خدا سے غیر کو ہمتا بنانا سخت گراں ہے خُدا سے کچھ ڈرو یارو ۔ یہ کیسا کذب و بُہتاں ہے اگر اقتدار ہے تم کو خدا کی ذاتِ واحد کا تو پھر کیوں اس قدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے ہمیں کچھ کہیں نہیں بھائیو ! نصیحت ہے غریبانہ کوئی جو پاک دل ہو دے دل و جاں اُس پہ قرباں ہے خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے براہین احمدیہ حصہ سوم ص ۱۸۳ مطبوعه شده / روحانی خزائن جلد ۱ ص ۱۹) 4