درثمین مع فرہنگ — Page 173
افترا کی ایسی ڈوم لمبی نہیں ہوتی کبھی جو ہو مثل مدت فخر النسل فخر الخيار حسرتوں سے میرا دل پر ہے کہ کیوں منکر ہو تم یہ گھٹا اب مجوم جُھوم آتی ہے دل پر بار بار یہ عجب آنکھیں ہیں سورج بھی نظر آتا نہیں کچھ نہیں چھوڑا حسد نے عقل اور سوچ اور بیچار قوم کی بد قسمتی راس سرکشی سے کھل گئی پر وہی ہوتا ہے جو تقدیر سے پایا قرار قوم میں ایسے بھی پاتا ہوں جو ہمیں دنیا کے مکرم مقصد اُن کی زیست کا ہے شہوت و خمر در قد کمر کے بل چل رہی ہے اُن کی گاڑی روز و شب نفس وشیطاں نے اٹھایا ہے اُنھیں جیسے کہار دیں کے کاموں میں تو ان کے لڑکھڑاتے ہیں قدم لیک دنیا کے لئے ہیں نوجوان و ہوشیار حلت و حرمت کی کچھ پروانہیں باقی رہی ٹھونس کہ مردار بیٹوں میں نہیں لیتے ڈکار لاف زہد و راستی اور پاپ دل میں ہے بھرا ہے زباں میں سب شرف اور پیچ دل جیسے چار اسے عزیز واکب تک چل سکتی ہے کاغذ کی ناؤ ایک دن ہے غرق ہونا بادو چشم اشکبار جاودانی زندگی ہے موت کے اندر نہاں گلشن دلبر کی رہ ہے وادی غربت کے خار اے خُدا کمزور ہیں ہم اپنے ہاتھوں سے اٹھا نا تواں ہم ہیں ہمارا خود اٹھا لے سارا بار 173