درثمین مع فرہنگ — Page 165
بس یہی ہتھیار ہے جس سے ہماری فتح ہے بس یہی راک قصر ہے جو عافیت کا ہے حصار ہے خُدا دانی کا آلہ بھی ہیں اسلام میں محض قصوں سے نہ ہو کوئی بشر ھوناں سے پار ہے یہی وحی خدا ر عرفان مولی کا نشاں جس کو یہ کامل ملے اُس کو ملے وہ دوستدار واہ رے باغ محبت موت جس کی رہگذر وفصل یار اس کا ثمرہ کی ارد گرد اس کے ہیں خار ایسے دل پر داغ لغت ہے ازل سے تاایک جو نہیں اس کی طلب میں بیخود و دیوانہ وار پر جو دنیا کے نہیں کپڑے وہ کیا ڈھونڈیں اسے دیں اُسے ملتا ہے جو دیں کے لئے ہو بے قرار ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار یاد وہ دن جبکہ کہتے تھے یہ سب ارکان دیں مہدی موعود حق مہدی موجود حق اب جلد ہوگا آشکار کون تھا جس کی تمنا یہ نہ تھی اک پوشش سے کون تھا میں کو نہ تھا اس آنے والے سے پیار پھر وہ دن جب آگئے اور چودھویں آئی صدی سب سے اول ہو گئے منکر ہی دیں کے منار پھر دوبارہ آگئی اخبار میں رسم یہود پھر سیچ وقت کے دشمن ہوئے یہ جبہ دار نوشتوں میں یہی از ابتدا تا انیتا پھر مئے کیونکہ کہ ہے تقدیر کے نقش جدار تھا میں تو آیا اس جہاں میں ابن مریم کی طرح میں نہیں مامور از بهر جہاد و کار زار 165