درثمین مع فرہنگ — Page 155
ایک بدر کر دار کی تائید میں اتنے نشاں کیوں دکھاتا ہے وہ کیا ہے بدکنوں کا رشتہ دار کیا بدلتا ہے وہ اب اس سنت و قانون کو جس کا تھا پابند وہ از ابتدائے روزگار آنکھ گر چھوٹی تو کیا کانوں میں بھی کچھ پڑ گیا کیا خدا دھوکے میں ہے اور تم ہو میرے رازدار۔جس کے دعوی کی سراسر افترا پر ہے بنا اُس کی یہ تائید ہو پھر جھوٹ سچ میں کیا نکھار کیا خدا بھولا رہا، تم کو حقیقت مل گئی کیا رہا وہ بے خبر اور تم نے دیکھا حال زار بد گمانی نے تمھیں مجنون و اندھا کر دیا ورنہ تھے میری صداقت پر برا ہیں بے شمار جہل کی تاریکیاں اور سوا کن کی تند باد جب اکٹھے ہوں تو پھر ایماں اُڑے جیسے غبار زہر کے پینے سے کیا انجام جرموت و فنا بد گمانی زہر ہے اس سے بھی اسے دیں شعار کانٹے اپنی راہ میں ہوتے ہیں ایسے بدگماں جن کی عادت میں نہیں شرم و شکیب و اصطبار و یہ غلط کاری بشر کی بدنصیبی کی ہے جڑ پر مقدر کو بدل دینا ہے کس کے رافتید سخت جاں ہیں ہم کسی سے بغض کی پروا نہیں دل قوی رکھتے ہیں ہم مردوں کی ہے ہم کو سہار جو خدا کا ہے اُسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اسے روبہ زار و نزار ہے سر رہ پر مرے وہ خود کھڑا مولیٰ کریم پس نہ بیٹھو میری رہ میں اسے شریران دیار 155