درثمین مع فرہنگ — Page 142
تم میں نہ رسم ہے ، نہ عدالت ، نہ اقاً پس اس سبب سے ساتھ تمھارے نہیں خُدا ہو گا تمھیں کلارک کا بھی وقت خوب یاد جب مجھ پر کی تھی تہمت نوں از رو فساد جب آپ لوگ اُس سے ملے تھے بدیں خیال تا آپ کی مدد سے اُسے سہل ہو جدال پر وہ خدا جو عاجز و رمسکیں کا ہے خُدا حاکم کے دل کو میری طرف اس نے کر دیا تم نے تو مجھ کو قتل کرانے کی ٹھانی تھی یہ بات اپنے دل میں بہت سہل جاتی تھی تھے چاہتے صلیب پر یہ شخص کھینچا جائے تا تم کو ایک فخر سے یہ بات ہاتھ آئے جھوٹا تھا مفتری تھا تبھی یہ ملی سزا آخر میری مدد کے لیئے خود اُٹھا خُدا ڈگلس پر سارا حال برنیت کا کھل گیا عزت کے ساتھ تب میں وہاں سے بری ہوا 142