درثمین مع فرہنگ — Page 141
اپنا تو اس کا وعدہ رہا سارا طاق اوروں کی سعی و جہد یہ بھی کچھ نہیں نظر پر کیا وہ خُدا نہیں ہے جو فرقاں کا ہے خُدا پھر کیوں وہ مفتری سے کرے اس قدر وفا آخر یہ بات کیا ہے کہ ہے ایک مفتری کرتا ہے ہر مقام میں اس کو خُدا بری جب دشمن اس کو بیچ میں کوشش سے لاتے ہیں کوشش بھی اس قدر کہ وہ بس مر ہی جاتے ہیں اک اتفاق کر کے وہ باتیں بناتے ہیں سو جھوٹ اور فریب کی تہمت لگاتے ہیں پھر بھی وہ نامراد مقاصد میں رہتے ہیں جاتا ہے لیے اثر وہ جو سو بار کہتے ہیں ذلت ہیں چاہتے۔یہاں اکرام ہوتا ہے۔کیا مفتری کا ایسا ہی انجام ہوتا ہے؟ کے قوم کے سر آمده ! اے حامیان دیں! سوچ کہ کیوں خُدا تمھیں دیتا مدد نہیں 141