درثمین مع فرہنگ — Page 135
موسیٰ بھی بد گمانی سے شرمندہ ہو گیا قرآن میں، خضر نے جو کیا تھا، پڑھو ذرا بندوں میں اپنے بھید خُدا کے ہیں صد ہزار نہ حقیقت ہے آشکار تم کو نہ علم ہے پس تم تو ایک بات کے کہنے سے مرگئے یہ کیسی عقل تھی کہ براہ خطر گئے بد سخت تر تمام جہاں سے وہی ہوا جو ایک بات کہ کے ہی دوزخ میں جا گرا پس تم بچاؤ اپنی بچاؤ اپنی زباں کو فساد سے ڈتے رہو عقوبت رَبُّ العباد دو عضو اپنے جو کوئی ڈر کر بچائے گا سیدھا خُدا کے فضل سے جنت میں جائے گا وه راک زباں ہے۔عضو نہانی ہے دوسرا“ یہ ہے حدیث سیدنا سید انوری پر وہ جو مجھے کو کاذب و مکار کہتے ہیں اور مفتری و کافه و بدکار کہتے ہیں 135