درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 133

شوخی و کبد دیو کھیں کا شعار ہے آدم کی نسل وہ ہے جو وہ خاکسار ہے کے کیرم خاک ! چھوڑ دے کبر و غرور کو یک زیبا ہے کہ حضرت رب غیور کو بنو ہر ایک اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دارا توصال میں چھوڑو غرور و رکینر کہ تقوی راسی میں ہے ہو جاؤ خاک مرضی مولا اسی میں ہے تقوای کی جڑ خُدا کے لیئے خاکساری ہے عفت جو شرط دیں ہے وہ تقویٰ میں ساری ہے جو لوگ بد گمانی کو شیوہ بناتے ہیں تقوی کی راہ سے وہ بہت دُور جاتے ہیں ہے بے احتیاط اُن کی زباں وار کرتی اک دم میں اس علیم کو بیزار کرتی ہے راک بات کہہ کے اپنے عمل سارے کھوتے ہیں پھر شوخیوں کا پیج ہر اک وقت ہوتے ہیں 133