درثمین مع فرہنگ — Page 130
جن کو نشانِ حضرت باری ہوا نصیب وہ اس جناب پاک سے ہر دم ہوئے قریب کھینے گئے کچھ ایسے کہ دنیا سے سو گئے کچھ ایسا نور دیکھا کہ اس کے ہی ہو گئے بن دیکھے کیسے پاک ہو اِنساں گناہ سے اس چاہ سے نکلتے ہیں لوگ اس کی چاہ سے تصویر شیر سے نہ ڈے کوئی گوسپند نے بار مردہ سے ہے کچھ اندیشه گزند مارِ پھر وہ خدا جو مُردہ کی مانند ہے پڑا پس کیا اُمید ایسے سے اور خوف اس سے کیا ایسے خُدا کے خوف سے دل کیسے پاک ہو سینہ میں اس کے عشق سے کیونکر تپاک ہو بن دیکھے کس طرح کسی مہ رُخ پہ آئے دل ردیدار گر نہیں کیونکر کوئی خیالی صنم ہے سے تو گفتار ہی سہی لگائے دل حُسن و جمالِ یار کے آثار ہی سہی 130