درثمین مع فرہنگ — Page 122
مقصود اُن کا جینے سے دنیا کمانا ہے مومن نہیں ہیں وہ کہ قدم فاسقانہ تم دیکھتے ہو کیسے دلوں پر ہیں اُن کے زنگ ہے دنیا ہی ہو گئی ہے فرش، دیس سے آتے ننگ دہ دیں ہی چیز کیا ہے کہ جو رہنا نہیں ایسا خُدا ہے اُس کا کہ گویا خدا نہیں پھر اس سے سختی راہ کی عظمت ہی کیا ہی اور خاص وجہ صفوت ملت ہی کیا رہی نورِ خدا کی اس میں علامت ہی کیا رہی توحید خشک رہ گئی نعمت ہی کیا رہی لوگو شنو که زنده خُدا وہ خدا نہیں جس میں ہمیشہ عادت قدرت نما نہیں مُردہ پرست ہیں وہ جو قصہ پرست ہیں پس اس لیئے وہ موردِ ذُل و شکست ہیں بن دیکھے دل کو دوستو ! پڑتی نہیں ہے کل رقصوں سے کیسے پاک ہو یہ نفس پر شکل 122