درثمین مع فرہنگ — Page 117
لوح مزاد میرزا مبارک احمد جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک تو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر کہا کہ آئی سے نیستند مجھ کو یہی تھا آخر کا قول لیکن کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خُدا نے اُسے بلایا بنانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پہ اسے دل تو جاں فدا کر (نوشته ماه تمبر یشه) جا مبارک تجھے فردوس مبارک ہو دئے ، سلے میں جو غلام احمد نام خدا کی یہ ہوں۔مبارک احمد جس کا اوپر ذکر ہے میرا لڑکا تھا وہ تاریخ شعبان ۱۳۲۵ھ مطابق ستمبر یه بروز دوشنبه بوقت نماز صبح وفات پا کر الہامی پیش گوئی کے موافق اپنے خدا کو جاہلا۔کیونکہ خدا نے میری زبان پر اس کی نسبت فرمایا تھا کہ وہ خدا کے ہاتھ سے دنیا میں آیا اور چھوٹی عمر میں ہی خدا کی طرف واپس جائے گا۔منہ “ ه خطبات محمد جلد اول ص ۸۳ ، خطبہ عید الفطر فرموده حضرت مصلح موعود مورخه ارمنی نه قادیان 117