درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 112

رانذار و تبشیر پھر چلے آتے ہیں یارو زلزلہ آنے کے دن زلزلہ کیا اس جہاں سے کوچ کر جانے کے دن تم تو ہو آرام میں۔پر اپنا قصہ کیا کہیں پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے سخت گھبرانے کے دن کیوں غضب بھڑ کا خُدا کا ؟ مجھ سے پوچھو غافلو! ہو گئے ہیں اس کا موجب میرے جھٹلانے کے دن غیر کیا جانے کہ غیرت اس کی کیا دکھلائے گی و خود بتائے گا اُنھیں وہ یار بتلانے کے دن دہ چمک دکھلائے گا اپنے نشاں کی پنج بار یہ خُدا کا قول ہے سمجھو گے سمجھانے کے دن طالبو ! تم کو مبارک ہو کہ اب نزدیک ہیں اُس میرے محبوب کے چہرہ کے دکھلانے کے دن 112