درثمین مع فرہنگ — Page 100
جلد آ مرے سہارے غم کے ہیں بوجھ بھارے منہ مت چھپا پیارے میری دوا یہی ہے کہتے ہیں پوش اُلفت یکساں نہیں ہے رہتا دل کے مرے پیارے ہر دم ہم خاک میں ملے ہیں شاید لیے وہ دلبر گھٹا ہی ہے جیتا ہوں اس کہوس سے میری غذا یہی ہے دنیا میں عشق تیرا ، باقی ہے سب اندھیرا معشوق ہے تو میرا ، عشق صفا ہی ہے مشت غبار اپنا تیرے لئے اُڑایا جب سے سُنا کہ شرط مہر و وفا یہی ہے دلبر کا درد درد آیا حرف خودی مٹایا جب میں مرا جلایا۔جام بتا رہی ہے - اس عشق میں مصائب سو سو ہیں ہر قدم میں پر کیا کروں کہ اُس نے مجھ کو دیا ہی ہے حرف وفا نہ چھوڑوں اس عہد کو نہ توڑوں ! اُس دلیر ازل نے مجھ کو کہا یہی ہے 100