درثمین مع فرہنگ — Page xi
ور ثمین کے آخر میں الہامی شعر درج ہے۔برتر گمان و وہم سے احمد کی شان ہے جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے سيرة المہدی حصہ دوم میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل کی ایک روایت درج ہے کہ آپ نے خود حضرت اقدس کے دست مبارک کا تحریر کردہ یہ شعر پڑھا ہے لیکن تعجب ہے آج کل دور ثمین میں اس کا کی بجائے جس کا، چھپا ہوا ہے ، اس ثقہ روایت کے مطابق اس شعر کو صحیح لکھوایا گیا ہے۔بہت سے اشعار میں الفاظ کی ترتیب درست کی گئی ہے۔ور ثمین کی کتابت کرواتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ سو سال میں اُردو رسم الخط میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق اسے جدید انداز میں لکھا جائے۔پہلے دو لفظوں کو جوڑ کر لکھ دیا جاتا تھا مثلاً دلونکو اب الگ لکھا جاتا ہے اس لئے ہر لفظ الگ الگ لکھوایا گیا ہے تاکہ قارئین کو خوبصورت تحریمہ پڑھتے ہیں آسانی ہو۔اسی طرح پہلے ہی اور لیئے میں اور ان اور ں میں فرق نہیں کیا جاتا تھا۔ایسے لفظوں کی درستی کی مثال کے لئے یہ شعر ملاحظہ فرمائیں۔بنا سکتا نہیں اک پاؤں کپڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیوں کہ بنانا نور حق کا اس پہ آساں ہے لفظ کیڑے، بعض کتابوں میں پرانے رسم الخط کے مطابق اس طرح لکھا ہوا ہے کہ کیڑی، پڑھا جاتا۔سے دریافت کر کے کیڑے اختیار کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں کتابت کے دوران راہ پانے والی ایسی غلطیاں بھی تھیں جن میں راہ اور رہ، تیرا اور ترا گناہ اور گنہ جیسے الفاظ میں فرق نہیں کیا گیا تھا۔اب پرانے ایڈیشن اور شعر کے وزن کے لحاظ سے انہیں درست کر دیا گیا ہے۔