درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xi of 320

درثمین مع فرہنگ — Page xi

ور ثمین کے آخر میں الہامی شعر درج ہے ۔ برتر گمان و وہم سے احمد کی شان ہے جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے سیرۃ المہدی حصہ دوم میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل کی ایک روایت درج ہے کہ آپ نے خود حضرت اقدس کے دست مبارک کا تحریر کردہ یہ شعر پڑھا ہے لیکن تعجب ہے آج کل در ثمین میں اس کا کی بجائے جس کا ، چھپا ہوا ہے ، اس ثقہ روایت کے مطابق اس شعر کو صحیح لکھوایا گیا ہے ۔ بہت سے اشعار میں الفاظ کی ترتیب درست کی گئی ہے ۔ دور مین کی کتابت کرواتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ سو سال میں اُردو رسم الخط میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق اسے جدید انداز میں لکھا جائے ۔ پہلے دو لفظوں کو جوڑ کر لکھ دیا جاتا تھا مثلاً دلونکو اب الگ لکھا جاتا ہے اس لئے ہر لفظ الگ الگ لکھوایا گیا ہے تاکہ قارئین کو خوبصورت تحریر پڑھنے میں آسانی ہو ۔ اسی طرح پہلے ہی اور لیئے ہیں اور دن اورں میں فرق نہیں کیا جاتا تھا ۔ ایسے لفظوں کی درستی کی مثال کے لئے یہ شعر ملاحظہ فرمائیں۔ بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہر گنز تو پھر کیوں کہ بنانا نور حق کا اس پہ آساں ہے لفظ کیڑے ، بعض کتابوں میں پرانے رسم الخط کے مطابق اس طرح لکھا ہوا ہے کہ کیڑی، پڑھا جاتا ہے حضرت مصلحب سے دریافت کر کے کیڑے، اختیار کیا گیا ہے ۔ - علاوہ ازیں کتابت کے دوران راہ پانے والی ایسی غلطیاں بھی تھیں جن میں راہ اور رہ، تیرا اور ترا گناہ اور گنہ، جیسے الفاظ میں فرق نہیں کیا گیا تھا ۔ اب پرانے ایڈیشن اور شعر کے وزن کے لحاظ سے اُنہیں درست کر دیا گیا ہے ۔