دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 61

۶۱ مری خاطر دکھائیں تو نے آیات ترخم سے مری سُن لی ہر اک بات کرم سے تیرے دشمن ہو گئے مات عطا کیں تو نے سب میری مُرادات جو میرے غول بدذات پڑی آخر خود اس موذی یہ آفات ہوا انجام کا نامرادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي بنائی تو نے پیارے میری ہر بات دکھائے تو نے احساں اپنے دن رات ہراک میداں میں دیں تو نے فتوحات بد اندیشوں کو تو نے کر دیا مات ہر اک پگڑی ہوئی تو نے بنا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي تری نصرت سے اب دشمن سے تبہ ہے ہر اک جا میں ہماری تو پٹہ ہے ہر اک بد خواہ اب کیوں روسیہ ہے کہ وہ مثل خسوف مہرومہ ہے سیاہی چاند کی منہ نے دکھا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي ترے فضلوں سے جاں بستاں سرا ہے ترے نوروں سے دل شمس الضحی ہے اگر اندھوں کو انکار و ابا ہے وہ کیا جانیں کہ اس سینہ میں کیا ہے لے دشمن کے لفظ سے اس جگہ وہ حاسد مراد ہیں جو ہر ایک طور سے مجھے تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں۔لوگوں کو میری نسبت بدظن کرتے ہیں اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی میں بھی جھوٹی شکائیتیں کرتے رہتے ہیں اور گورنمنٹ محسنہ کی نسبت جو میرے مخلصانہ خیالات ہیں ان کو چھپاتے ہیں۔منہ