دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 27

۲۷ وہ اُس یار کو صدق دکھلاتے ہیں اسی غم میں دیوانہ بن جاتے ہیں وہ جاں اس کی رہ میں فدا کرتے ہیں وہ ہر لحظہ سو سو طرح مرتے ہیں وہ کھوتے ہیں سب کچھ بصدق وصفا مگر اُس کی ہو جائے حاصل رضا یہ دیوانگی عشق کا ہے نشاں نہ سمجھے کوئی اس کو مجز عاشقاں غرض جوشِ اُلفت سے مجذوب وار یہ نانک نے چولا بنایا شعار مگر اس سے راضی ہو وہ دلستاں کہ اُس بن نہیں دل کو تاب و تواں خدا کے جو ہیں وہ یہی کرتے ہیں وہ لعنت سے لوگوں کی کب ڈرتے ہیں وہ ہو جاتے ہیں سارے دلدار کے نہیں کوئی اُن کا بجز یار کے وہ جاں دینے سے بھی نہ گھبراتے ہیں کہ سب کچھ وہ کھو کر اُسے پاتے ہیں وہ دلبر کی آواز بن جاتے ہیں وہ اُس جاں کے ہمراز بن جاتے ہیں وہ ناداں جو کہتا ہے در بند ہے نہ الہام ہے اور نہ پیوند ہے نہیں عقل اُس کو نہ کچھ غور ہے اگر دید ہے یا کوئی اور ہے یہ سچ ہے کہ جو پاک ہو جاتے ہیں سے خدا کی خبر لاتے ہیں اگر اس طرف سے نہ آوے خبر تو ہو جائے جائے یہ راہ زیر و زبر طلب گار ہو جائیں اس کے تباہ وہ مر وہ مر جائیں دیکھیں اگر بند راہ