دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 26

۲۶ ہوا حکم یہن اس کو اے نیک مرد! اتر جائیگی اس سے وہ ساری گرد جو پوشیدہ رکھنے کی تھی اک خطا یہ کفارہ اُس کا ہے اے باوفا ! یہ ممکن ہے کشفی ہو یہ ماجرا دیکھایا گیا ہو حکم خدا پھر لکھایا گیا خدا پھر پھر اُس طرز پر یہ بنایا گیا بحکم خدا مگر یہ بھی ممکن ہے اے پختہ کار کہ خود غیب سے ہو یہ سب کاروبار کہ پردے میں قادر کے اسرار ہیں کہ عقلیں وہاں پیچ و بے کار ہیں تو یک قطره داری ز عقل و خرد مگر قدرتش بحر بے حد و عد اگر بشنوی قصه صادقاں میاں تو خود را خردمند فهمیده مقامات خود چو مستہزیاں مرداں گیا دیده غرض اُس نے پہنا وہ فرخ لباس نہ رکھتا تھا مخلوق سے کچھ ہراس وہ پھرتا تھا گو چوں میں چولہ کے ساتھ دکھاتا تھا لوگوں کو قدرت کے ہاتھ کوئی دیکھتا جب اُسے دُور سے تو ملتی خبر اُس کو اُس نور سے جسے دُور سے وہ نظر آتا تھا اُسے چولہ خود بھید سمجھاتا تھا وہ ہر لحظہ چولے کو دکھلاتا تھا اسی میں وہ ساری خوشی پاتا تھا غرض یہ تھی تا یار خورسند ہو خطا دور ہو جو عشاق اُس ذات کے ہوتے ہیں پخته پیوند ہو وہ ایسے ہی ڈر ڈر کے جاں کھوتے ہیں