دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 13

۱۳ اُن کو سودا ہوا ہے ویدوں کا اُن کا دل مبتلا ہے ویدوں کا آریو! اس قدر کرو کیوں جوش کیا نظر آ گیا ہے ویدوں کا؟ نہ کیا ہے نہ کر سکے پیدا سوچ لو یہ خدا ہے ویدوں کا عقل رکھتے ہو آ آپ بھی کیوں بھروسہ کیا ہے ویدوں کا؟ بے خدا کوئی چیز کیونکر ہو یہ سراسر خطا ہے ویدوں کا ناستک مت کے وید ہیں حامی بس یہی مدعا ہے ویدوں کا ایسے مذہب کبھی نہیں چلتے کال سر پر کھڑا ہے ویدوں کا 000 سرمه چشم آریہ صفحہ ۱۷۲ - مطبوعه ۱۸۸۶ء