دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 14

۱۴ عہد شد از کردگار وفات مسیح ناصری بے کیوں نہیں لوگو تمہیں حق کا خیال؟ دل میں اُٹھتا ہے میرے سو سو اُبال ابن مریم مر گیا حق کی قسم داخل جنت ہوا وہ محترم مارتا ہے اُس کو فرقاں سربسر اُس کے مر جانے کی دیتا ہے خبر وہ نہیں باہر رہا اموات سے ہو گیا ثابت یہ تیں آیات کوئی مُردوں سے کبھی آیا نہیں یہ تو فرقاں نے بھی بتلایا نہیں چگوں غورگن در أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ اے عزیزو! سوچ کر دیکھو ذرا موت سے بچتا کوئی دیکھا بھلا؟ یہ تو رہنے کا نہیں پیارو مکاں چل بسے سب انبیاء و راستاں ہاں نہیں پاتا کوئی اس سے نجات یوں ہی باتیں ہیں بنائیں واہیات کیوں تمہیں انکار پر اصرار ہے ہے یہ دیں یا سیرتِ کفار ہے برخلاف نص یہ کیا جوش ہے سوچ کر دیکھو اگر کچھ ہوش ہے کیوں بنایا ابن مریم کو خدا سنت اللہ سے وہ کیوں بنایا اُس کو باشان کبیر غیب دان و خالق و حتی و قدیر مر گئے سب پر وہ مرنے سے بچا اب تلک آئی نہیں اس پر فنا کیوں باہر رہا