دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 171

مجھ کو بس ہے وہ خدا عہدوں کی کچھ پروانہیں ہو سکے تو خود بنو مہدی بحکم کردگار افتر العنت ہے اور ہر مفتری ملعون ہے پھر لعیں وہ بھی ہے جو صادق سے رکھتا ہے نقار تشنہ بیٹھے ہو کنار جوئے شیریں حیف ہے سرزمین ہند میں چلتی ہے نہر خوشگوار ان نشانوں کو ذرہ سوچو کہ کس کے کام ہیں کیا ضرورت ہے کہ دکھلاؤ غضب دیوانہ وار مفت میں ملزم خدا کے مت بنوا کے منکر و یہ خدا کا ہے نہ ہے یہ مفتری کا کاروبار خدا بنوائے فتوحات نمایاں یہ تواتر سے نشاں کیا یہ ممکن ہیں بشر سے کیا یہ مکاروں کا کار ایسی سرعت یہ شہرت نا گہاں سالوں کے بعد کیا نہیں ثابت یہ کرتی صدق قول کردگار کچھ تو سوچو ہوش کر کے کیا یہ معمولی ہے بات جس کا چرچا کر رہا ہے ہر بشر اور ہر دیار مٹ گئے چیلے تمہارے ہو گئی جنت تمام اب کہو کس پر ہوئی اسے منکر ولعنت کی مار بندہ درگاہ ہوں اور بندگی سے کام ہے کچھ نہیں ہے فتح سے مطلب نہ دل میں خوف ہار مت کرو بک بک بہت اُس کی دلوں پر ہے نظر دیکھتا ہے پاکی دل کو نہ باتوں کی سنوار کیسے پتھر پڑ گئے ہے ہے تمہاری عقل پر دیں ہے منہ میں گرگ کے تم گرگ کے خود پاسدار ہر طرف سے پڑ رہے ہیں دینِ احمد پر تبر کیا نہیں تم دیکھتے قوموں کو اور اُن کے وہ وار ے اب تک کئی ہزار خدا تعالیٰ کے نشان میرے ہاتھ پر ظاہر ہو چکے ہیں۔زمین نے بھی میرے لئے نشان دکھلائے اور آسمان نے بھی اور دوستوں میں بھی ظاہر ہوئے اور دشمنوں میں بھی جن کے کئی لاکھ انسان گواہ ہیں اور ان نشانوں کو اگر تفصیلاً جد اجد اشمار کیا جائے تو قریباًؤ ہ سارے نشان دس لاکھ تک پہنچتے ہیں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ مِنه