دُرِّثمین اُردو — Page 170
۱۷۰ پھر یہ قلیں بھی اگر میری طرف سے پیش ہوں تنگ ہو جائے مخالف پر مجال کارزار باغ مُرجھایا ہوا تھا گر گئے تھے سب شمر میں خدا کا فضل لایا پھر ہوئے پیدا ثمار مرہم عیسی نے دی تھی محض عیسی کو شفا میری مرہم سے شفا پائے گا ہر ملک و دیار جھانکتے تھے نور کو وہ روزن دیوار سے ایک جب در گھل گئے پھر ہو گئے غیر شعار وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے اُمید وار پر ہوئے دیں کے لئے یہ لوگ مار آستیں دشمنوں کو خوش کیا اور ہو گیا آزردہ یار غل مچاتے ہیں کہ یہ کافر ہے اور دجال ہے پاک کو ناپاک سمجھے ہو گئے مُردار خوار گو وہ کا فرکہ کے ہم سے دور تر ہیں جاپڑے انکے غم میں ہم تو پھر بھی ہیں حزین و دلفگار ہم نے یہ مانا کہ انکے دل ہیں پھر ہو گئے پھر بھی پتھر سے نکل سکتی ہے دینداری کی نار کیسے ہی وہ سخت دل ہوں ہم نہیں ہیں نا امید آیت لَا تَيْسُوا رکھتی ہے دل کو استوار پیشہ ہے رونا ہمارا پیش ربّ ڈوالیکن یہ شجر آخر کبھی اس نہر سے لائیں گے بار جن میں آیا ہے بیک وقت وہ منکر ہوئے مر گئے تھے اس تمنا میں خواص ہر دیار میں نہیں کہتا کہ میری جان ہے سب سے پاک تر میں نہیں کہتا کہ یہ میرے عمل کے ہیں شمار میں نہیں رکھتا تھا اس دعوئی سے اک ذرہ خبر کھول کر دیکھو بُرا ہیں کو کہ تا ہو اعتبار گر کہے کوئی کہ یہ منصب تھا شایانِ قریش وہ خُدا سے پوچھ لے میرا نہیں یہ کاروبار