دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 141

۱۴۱ اے ہوش و عقل والو! یہ عبرت کا ہے مقام چالاکیاں تو بیچ ہیں، تقویٰ سے ہوویں کام جو متقی ہے اس کا خدا خود نصیر ہے انجام فاسقوں کا عذاب سعیر ہے جڑ ہے ہر ایک خیر و سعادت کی اتقا جس کی یہ جڑ رہی ہے عمل اس کا سب رہا مؤمن ہی فتح پاتے ہیں انجام کار میں ایسا ہی پاؤ گے سخن کردگار میں کوئی بھی مفتری ہمیں دنیا میں اب دکھا جس پر یہ فضل ہو یہ عنایات یہ عطا اس بد عمل کی قتل سزا ہے نہ یہ کہ پیت پس کس طرح خدا کو پسند آ گئی یہ ریت کیا تھا یہی معاملہ پاداش افترا کیا مفتری کے بارے میں وعدہ یہی ہوا کیوں ایک مفتری کا وہ ایسا ہے آشنا یا بے خبر ہے عیب سے دھوکے میں آ گیا