دُرِّثمین اُردو — Page 142
۱۴۲ آخر کوئی تو بات ہے جس سے ہوا وہ یار بد کار سے تو کوئی بھی کرتا نہیں ہے پیار بد بنا کے پھر بھی گرفتار ہو گئے یہ بھی تو ہیں نشاں جو نمودار ہو گئے تاہم وہ دوسرے بھی نشاں ہیں ہمارے پاس لکھتے ہیں اب خدا کی عنایت سے بے ہراس جس دل میں رچ گیا ہے محبت سے اسکا نام وہ خود نشاں ہے نیز نشاں سارے اسکے کام کیا کیا نہ ہم نے نام رکھائے زمانہ سے مردوں سے نیز فرقہء ناداں زنانہ سے اُن کے گماں میں ہم بد و بدحال ہو گئے اُن کی نظر میں کافر و دجال ہو گئے ہم مفتری بھی بن گئے اُن کی نگاہ میں بے دیں ہوئے فساد کیا حق کی راہ میں پر ایسے کفر پر تو فِدا ہے ہماری جاں جس سے ملے خدائے جہان و جہانیاں