دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 132

۱۳۲ اُن کے لئے تو بس ہے خدا کا یہی نشاں یعنی وہ فضل اُس کے جو مجھ پر ہیں ہر زماں دیکھو! خدا نے ایک جہاں کو جھکا دیا! گم نام پا کے شجرة عائم بنا دیا! جو کچھ مری مراد تھی سب کچھ دیکھا دیا میں اک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا دنیا کی نعمتوں سے کوئی بھی نہیں رہی جو اُس نے مجھ کو اپنی عنایات سے نہ دی ایسے بدوں سے اُس کے ہوں ایسے معاملات کیا یہ نہیں کرامت و عادت سے بڑھ کے بات جو مفتری ہے اُس سے یہ کیوں اتحاد ہے۔کس کو نظیر ایسی عنایت کی یاد ہے مجھ پر ہر اک نے وار کیا اپنے رنگ میں آخر ذلیل ہو گئے انجام جنگ میں ان کیوں میں کسی کو بھی ارماں نہیں رہا سب کی مراد تھی کہ میں دیکھوں رہ فنا