دُرِّثمین اُردو — Page 131
۱۳۱ موسیٰ بھی بدگمانی سے شرمندہ ہو گیا قرآں میں، خضر نے جو کیا تھا، پڑھو ذرا بندوں میں اپنے بھید خدا کے ہیں صد ہزار تم کو نہ علم ہے نہ حقیقت ہے آشکار پس تم تو ایک بات کے کہنے سے مر گئے یہ کیسی عقل تھی کہ براہ خطر گئے بدبخت تر تمام جہاں سے وہی ہوا جو ایک بات کہہ کے ہی دوزخ میں جا گرا پس تم بچاؤ اپنی زباں کو فساد سے ڈرتے رہو عقوبت ربّ العباد سے دو عضو اپنے جو کوئی ڈر کر بچائے گا سیدھا خدا کے فضل سے جنت میں جائے گا وہ اک زباں ہے، عُضو نہانی ہے دوسرا یہ ہے حدیث سیدنا سید الوری پر وہ جو مجھ کو کاذب و مکار کہتے اور مفتری و کافر و بدکار کہتے ہیں