دُرِّثمین اُردو — Page 164
۱۶۴ مگر انساں کو مٹا دیتا ہے انسان دگر پر خدا کا کام کب بگڑے کسی سے زینہار مفتری ہوتا ہے آخر اس جہاں میں روسیہ جلد تر ہوتا ہے برہم افترا کا کاروبار افترا کی ایسی دُم لمبی نہیں ہوتی کبھی جو ہو مثلِ مُدَتِ فخر الرسل فخر الخيار حسرتوں سے میرا دل پر ہے کہ کیوں منکر ہو تم یہ گھٹا اب جُھوم جُھوم آتی ہے دل پر بار بار یہ عجب آنکھیں ہیں سورج بھی نظر آتا نہیں کچھ نہیں چھوڑا حسد نے عقل اور سوچ اور بیچار قوم کی بدقسمتی اس سرکشی سے گھل گئی پر وہی ہوتا ہے جو تقدیر سے پایا قرار قوم میں ایسے بھی پاتا ہوں جو ہیں دُنیا کے کرم مقصد انکی زیست کا ہے شہوت وخمر و قمار مکر کے بل چل رہی ہے اُن کی گاڑی روز وشب نفس وشیطاں نے اُٹھایا ہے انہیں جیسے کہار دیں کے کاموں میں تو ان کے لڑکھڑاتے ہیں قدم لیک دُنیا کے لئے ہیں نوجوان و ہوشیار حلت و حرمت کی کچھ پروا نہیں باقی رہی ٹھونس کر مُردار پیٹوں میں نہیں لیتے ڈکار لاف زہد و راستی اور پاپ دل میں ہے بھرا ہے زباں میں سب شرف اور پیچ دل جیسے چمار اے عزیز و کب تلک چل سکتی ہے کاغذ کی ناؤ ایک دن ہے غرق ہونا بادو چشم اشکبار جاودانی زندگی ہے موت کے اندر نہاں گلشن دلبر کی راہ ہے وادی نظر بت کے خار اے خدا کمزور ہیں ہم اپنے ہاتھوں سے اُٹھا نا تواں ہم ہیں ہمارا خود اٹھا لے سارا بار تیری عظمت کے کرشمے دیکھتا ہوں ہر گھڑی تیری قدرت دیکھ کر دیکھا جہاں کو مُردہ وار