دُرِّثمین اُردو — Page 165
کام دکھلائے جو تو نے میری نصرت کے لئے پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے ہر زماں وہ کاروبار رکس طرح تو نے سچائی کو مری ثابت کیا میں ترے قرباں مری جاں تیرے کاموں آثار ہے عجب اک خاصیت تیرے جمال حسین میں جس نے اک چپکار سے مجھ کو کیا دیوانہ وار اے گے پیارے ضلالت میں پڑی ہے میری قوم تیری قدر سے نہیں کچھ دور گر پائیں سُدھار مجھ کو کا فرکہتے ہیں میں بھی انہیں مومن کہوں گر نہ ہو پر ہیز کرنا جھوٹ سے دیں کا شعار مجھ پہ اے واعظ نظر کی یار نے تجھ پر نہ کی حیف اُس ایماں پہ جس سے گفر بہتر لاکھ بار روضہ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک میرے آنے سے ہوا کامل نجملہ برگ وبار وہ خدا جس نے نبی کو تھا زر خالص دیا زیور دیں کو بناتا ہے وہ اب مثلِ سُنار وہ دکھا تا ہے کہ دیں میں کچھ نہیں اکراہ وجبر دیں تو خود کھینچے ہے دل مثل بہت سیمیں عذار بس یہی ہے رمز جو اُس نے کیا منع از جہاد تا اُٹھاوے دیں کی رہ سے جو اُ ٹھا تھا اک غبار تادکھاوے منکروں کو دیں کی ذاتی خوبیاں جن ہوں شرمندہ جو اسلام پر کرتے ہیں وار کہتے ہیں یورپ کے ناداں یہ نبی کامل نہیں پر وحشیوں میں دیں کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار بنانا آدمی وحشی کو ہے اک معجزہ معنی راز نبوت ہے اسی سے آشکار نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اک نور تھے قوم وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار روشنی میں مہر تاباں کی بھلا کیا فرق ہو گرچہ نکلے روم کی سرحد سے یا از زنگبار